25 اگست 2026 - 21:09
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 1

قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ؛ سورہ جمعہ کی آیات 1 تا 8، ایک طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقامِ رسالت اور آپ کے مشن کا نقشہ پیش کرتی ہیں، اور دوسری طرف اس قوم کا انجام واضح کرکے دکھاتی ہیں جو کتاب کی مالک تو ہے مگر اس کی حقیقت سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔

تفسیر المیزان میں یہ آیات ایک مربوط نظام تشکیل دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ "الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيم؛ بادشاہ، پاک، غالب، حکیم۔" ایک نبی کو مبعوث کرتا ہے جو انسان کو گمراہی سے نکال دے، لیکن صرف کتاب اور علم کا حامل ہونا، قبول کرنے اور عمل کرنے کے بغیر، نجات کا ذریعہ نہیں ہے۔

وہ کائنات جو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرتی ہے

سورہ جمعہ کا آغاز اس عبارت سے ہوتا ہے: "يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ؛ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔" علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں کہ سورہ کا آغاز اللہ کی تنزیہ پر دلالت کرتا ہے؛ یعنی تمام مخلوقات اپنے وجود میں کسی نہ کسی طرح اللہ کی محتاج ہیں اور اسے ہر عیب سے پاک سمجھتی ہیں۔

پھر چار صفات "الْمَلِك – الْقُدُّوس – الْعَزِيز – الْحَكِيم" آتی ہیں؛ اللہ بادشاہ اور فرمانروا بھی ہے، ہر نقص سے پاک بھی، غالب و ناقابلِ شکست بھی، اور اس کے تمام کام حکمت پر مبنی ہیں۔ ایسا اللہ جب انسان کی ہدایت کے لئے نبی بھیجتا ہے تو یہ بعثت بھی اسی حکیمانہ تدبیر کا حصہ ہے۔

وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 1

نبی کا مشن صرف آیات پڑھانا نہیں ہے:

دوسری آیت اس مجموعے کا ایک اہم حصہ ہے: "هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ؛ وہی ہے جس نے اُن پڑھے لکھے لوگوں میں ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔"

 المیزان کی نظر میں نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مشن کو ایک ہی فریضے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ آیت چار مراحل کو ایک ساتھ رکھتی ہے: تلاوتِ آیات، تزکیہ، تعلیمِ کتاب، اور تعلیمِ حکمت۔ چنانچہ یہ مشن اور یہ رسالت صرف دینی معلومات کے ایک مجموعے کی متنقلی نہیں ہے؛ بلکہ اسے انسان کو بدل دینا چاہئے۔

"تلاوت" انسان کے لئے الٰہی پیغام سے روبرو ہونے کی تمہید ہے، "تعلیمِ کتاب" اللہ کے احکام اور معارف کے سمجھنے پر مشتمل ہے، اور "تزکیہ" انسان کے فکری اور اخلاقی آلودگیوں سے پاک ہونے پر۔ "حکمت" انسان کو صحیح تشخیص کی قوت اور ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اسی لئے اگر علم انسان کے رویئے اور شخصیت کی اصلاح نہ کرے تو ابھی بعثت کا اصل ہدف پورا نہیں ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha